’ادھوری نیند خراب رویے کا سبب‘

Share:


’ادھوری نیند خراب رویے کا سبب‘



نیند کی کمی کی وجہ سے ہمارے جسم پر منفی اثرات کا مرتب ہونا واضح ہے لیکن اس سے ہماری ذہنی صحت کیسے متاثر ہوتی ہے؟

کم نیند کی وجہ سے اربوں کا نقصان ہوتا ہے۔
 نیند پوری نہ ہونے کے باعث کام کرنے والے افراد تھکے ہوئے رہتے ہیں اور اسی وجہ سے وہ غیر ارادی طور پر 'بے ضرورت' کام کر بیٹھتے ہیں۔


 کم سونے کے بعد لوگوں میں درست فیصلہ کرنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے۔

کم سونے والے افراد کو دفتر میں ناکامی کا خوف رہتا ہے اور اس کے وجہ سے کام پر ان کی مشکلات بڑھ جاتی ہیں۔

 'دفتر میں خراب رویے کے وجہ وہ مطلبی پن ہے جو کم قوت ارادی کی وجہ سے بڑھ جاتا ہے۔'
اس کم قوت ارادی کے باعث لوگ دفتر میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ بدتمیزی کرتے ہیں اور دفتروں میں چوری کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

 کم نیند کی وجہ سے لوگوں میں قوت ارادی کم ہو جاتی ہے اور ان کا صبر کا پیمانہ جلدی لبریز ہو جاتا ہے۔

 ایک معقول نظریہ یہ ہے کہ گہری نیند کے دوران آپ کا دماغ مختصر مدت کی یادداشت کو طویل المدت یادداشت کو محفوظ رکھنے والے حصے میں منتقل کر دیتا ہے اور اگر آپ اچھی نیند نہیں لیتے تو یہ یادداشت ختم ہو جائے گی۔

 جب آپ نیند کی کمی کا شکار ہوتے ہیں تو بھوک کے ہارمونز میں تبدیلی آتی ہے اور آپ کو زیادہ بھوک محسوس ہو گی اور اس بات کا امکان کم ہے کہ آپ خود کو بھوکا محسوس نہ کریں۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ نیند کی کمی کا شکار لوگ اکثر میٹھی خوراک لیتے ہیں۔

اگر آپ اس وقت نیند سے بیدار ہوتے ہیں جب آپ کو ہونا نہیں چاہیے تو اعصابی دباؤ کے زیادہ ہارمونز اور زندگی کے لیے ضروری کارٹی زال ہارمونز پیدا کرتے ہیں اور یہ شکر کے لیول پر اثر انداز ہوتے ہیں 

نیند کی کمی کی وجہ سے مزید منفی خیالات آتے ہیں اور ہم ان کے ساتھ جڑ جاتے ہیں۔

'سالانہ آمدن میں 60 ہزار ڈالر کا اضافہ روزانہ اتنی خوشی نہیں دے گا جتنی کہ رات کو ایک گھنٹے کی اضافی نیند، تو اچھی نیند لیں۔

No comments