نزلہ ،زکام،فلو،سردیوں کے تحائف
نزلہ اس وقت ہوتاہے جب اس کا وائرس ناک ،حلق ،سانس کی نالیوں اور ممکنہ طورپر پھیپھڑوں سمیت ہمارے پورے نظام تنفس کو متاثر کرتا ہے ، اس کے برعکس زکام کا وائرس صرف ہماری ناک اور حلق پر حملہ آورہوتاہے ۔
علامات
نزلے کی ابتدائی علامات میں بخار ، تھکن، جسم میں درد ، سردی لگنا، سردرد،گلے میں خراش اور کھانسی شامل ہیں ۔ نزلے کی شدید حالت تین سے چار دن رہتی ہے ۔ کھانسی البتہ دیر تک رہتی ہے ، اور اسے ٹھیک ہونے میں دس دن تک لگ سکتے ہیں ۔ جبکہ تھکاوٹ اور کمزور ی کا احساس کئی ہفتوں تک رہ سکتا ہے ۔ نزلے کے وائرس کا ایک بار شکار ہونے کے 24 سے 72گھنٹے کے اندر آپ اس مرض کو دوسروں میں پھیلانے کا ذریعہ بن سکتے ہیں چونکہ وائرس کا شکار ہونے کے فوری بعد اس کی علامات ظاہر نہیں ہوتیں، اس لیے آپ کو پتہ ہی نہیں چلتا کہ آپ بیمار ہوچکے ہیں ۔یوں آ پ خود کو مکمل صحت مند سمجھتے ہوئے اپنے معمولات زندگی نمٹاتے رہتے ہیں اور جہاں جاتے ہیں اس کے وائرس پھیلاتے رہتے ہیں ۔ نزلے میں مبتلا ہوں تو گھر سے باہر نہ نکلیں ۔ کم از کم اس وقت تک جب تک بخار اتر نہ جائے ایک بار بخار اتر جائے تو پھر آپ سے نزلے کے وائرس دوسروں کو منتقل نہیں ہوتے
نزلے کا بہترین علاج
نزلے کا واحد بہترین علاج کوئی نہیں ۔ البتہ اس کی علامات کی شدت کم کرنے کے بہت سے طریقے ہیں ۔ نزلے کی ابتدائی علامات ظاہر ہوتے ہی ادویات کے استعمال سے اس کے دورانئے کو کم کیا جاسکتا ہے ۔ اگر ابتدائی علامات ظاہر ہونے کے 48 گھنٹے کے اندر یہ دوائیں استعمال کرلی جائیں تو صورت حال پر قابو پایا جاسکتا ہے ، لیکن اگر اس کے بعد بھی استعمال کی جائیں تو اس سے نزلے کے باعث ہونے والی دیگر تکالیف کو روکنے میں مدد ملتی ہے ۔ یہ بات ذہن میں رہے کہ نزلے کی ادویات بخار، درد ، بند ناک کھولنے اور کھانسی سے آرم کے لیے ہوتی ہیں ، یہ نزلے کا علاج نہیں کرتیں ۔ ان سے نزلے کی حالت میں کچھ آرام مل جاتا ہے ۔ نزلے کی حالت میں مایع اشیا کا استعمال زیادہ سے زیادہ کریں تاکہ جسم میں پانی کمی نہ ہو۔ اس سے بلغم بھی کم ہوتاہے ۔ چائے ،کافی ، اور کولا مشروبات کا استعمال محدود کردیں۔ کھانا اسی وقت کھائیں جب بھوک ہو۔ بھوک کم ہو تو ہلکی پھلکی غذا کھائیں ۔
نزلے یا زکام کی حالت میں اینٹی بایوٹک کا استعمال بے فائدہ ہوتا ہے ۔ اس لیے کہ یہ ادویات بیکٹیریا کو ہلاک کرتی ہیں ، کسی بھی قسم کے وائرس کو نہیں ۔ البتہ نزلے کی وجہ سے چونکہ ہمارا مدافعتی نظام کمزور پڑجاتا ہے اور بیکٹیریل انفیکشن کے دروازے کھل جاتے ہیں ۔ اس لیے اگر آپ محسوس کریں کہ نزلہ شرو ع میں معمولی نوعیت کا تھا ، مگر بعد میں ا س کی شدت بڑھ گئی ہے تو اس بات کا امکان ہے کہ آپ بیکٹیریل انفیکشن کاشکار ہوچکے ہیں۔اس صورت میں آپ فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں ۔اور پوری صورت حال بتائیں ۔ ممکن ہے آپ کے لیے اینٹی بایوٹک ادویات کا استعمال ضروری ہوگیا ہو۔
اگر علاما ت برقرار رہیں ، ایک ہفتہ گزرنے کے بعد بھی آرام نہ آئے یا بخار کو تین دن سے زائد ہوجائے تو پھر فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہئے۔اگر نزلے کے ساتھ کو ئی اور طبی مسئلہ ہوجائے تو ایسی صورت میں بھی ڈاکٹر سے رابطہ کرنے میں تاخیرنہیں کرنی چاہئے ۔ اسی طرح نوزائیدہ یا کم سن بچے کو نزلہ ہوجائے تب بھی ڈاکٹرسے مشورہ ضرورلینا چاہئے ۔ چند علامات ایس ی ہیں جن کے ظاہر ہونے پر نزلے کے بگڑنے اور نمونیا ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں ۔ مثلاًسانس لینے میں دشواری،مستقل بخار،بار بار قے آنا جس سے جسم میں پانی کی کمی کا خدشہ ہو،جسم میں سوجن،مستقل کھانسی ، مستقل سردرد۔ نزلے کی حالت میں اگر ان میں سے کوئی ایک علامت بھی ظاہر ہوجائے تو فوری طور
پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہئے ۔
google image

No comments