چائے کو دوده میں ملا کر پینے کی داستان
چائےچین کی پیداوارھےاورچینیوں کی تصریح کےمطابق ۱۵۰۰ برس سے استعمال کی جارہی ھےلیکن وہاں کبھی کسی کےخواب و خیال میں بھی یہ بات نہیں گزری کہ اس جوہرِ لطیف کو دودھ کی کثافت سے آلودہ کیا جاسکتاھے۔ جن جن ملکوں میں چین سے براہِ راست گئی مثلاً روس ، ترکستان ، ایران وہاں کبھی بھی کسی کو یہ خیال نہیں گزرامگر سترھویں صدی میں جب انگریز اس سے آشنا ہوئےتونہیں معلوم ان لوگوں کو کیا سوجھی ، انہوں نے دودھ ملانے کی بدعت ایجاد کی اور چونکہ ہندوستان میں چائےکا رواج انہیں کےذریعےہوا،اس لئے یہ بدعت سیئہ یہاں بھی پھیل گئی۔ رفتہ رفتہ معاملہ یہاں تک پہنچ گیاکہ لوگ چائےمیں دودھ ڈالنےکی جگہ دودھ میں چائے ڈالنےلگے۔ اب انگریز تو یہ کہہ کر الگ ہوگئےکہ زیادہ دودھ نہیں ڈالناچاہئےلیکن ان کے تخم فساد نے جو برگ و بار پھیلا دیئےہیں ، انہیں کون چھانٹ سکتاھے؟
لوگ چائےکی جگہ ایک طرح کا سیال حلوہ بناتےہیں۔ کھانے کی جگہ پیتےہیں اور خوش ہوتےہیں کہ ھم نے چائے پی لی۔
پھرایک بنیادی سوال چائےکی نوعیت کا بھی ھےاوراس کے بارے میں بھی ایک عجیب عالمگیر غلط فہمی پھیل گئی ھے۔ عام طورپرلوگ ایک خاص طرح کی پتی کوجوہندوستان اور سیلون میں پیدا ہوتی ھے سمجھتےہیں چائےھےاورپھراس کی مختلف قسمیں کرکےایک کو دوسرےپرترجیح دیتےہیں اور اس ترجیح کےبارےمیں باہم رد و کد کرتےہیں۔ ایک گروہ کہتاھےسیلون کی چائےبہتر ھے، دوسرا کہتاھےدارجلنگ کی بہتر ھے۔ حالانکہ ان فریب خوردگان رنگ و بو کوکون سمجھائےکہ جس چیزپر جھگڑ رھےہیں وہ سرے سے چائےھےہی نہیں۔
عالمگیر غلطی
دراصل یہ عالمگیر غلطی اس طرح ہوئی کہ انیسویں ۱۹ صدی کےاوائل میں جب چائےکی مانگ ہرطرف بڑھ رہی تھی ہندوستان کےبعض انگریز کاشتکاروں کو خیال ہواکہ سیلون اور ہندوستان کےبلنداورمرطوب مقامات میں چائےکی کاشت کا تجربہ کریں۔ انہوں نےچین سے چائےکےپودےمنگوائےاوریہاں کاشت شروع کی۔ یہاں کی مٹی نے چائےپیداکرنےسےتوانکارکردیا مگر تقریباً اسی شکل و صورت کی ایک دوسری چیز پیداکردی ۔ ان زیاں کاروں نےاس کانام چائے رکھ دیااوراس غرض سےکہ اصلی چائےسےممتاز رھے، اسے کالی چائےکےنام سےپکارنےلگے۔
دنیا جو اس جستجو میں تھی کہ کسی نہ کسی طرح یہ جنس کمیاب ارزاں ہو ، بےسمجھےبوجھےاسی پرٹوٹ پڑی اور پھرگویاپوری نوعِ انسانی نےاس فریب خوردگی پر اجماع کرلیا۔ اب آپ ہزار سر پیٹئے، سنتاکون ھے۔
معاملہ کا سب سےزیادہ دردانگیز پہلویہ ھےکہ خود چین کے بعض ساحلی باشندے بھی اس عالم گیر فریب میں آگئےاوراسی پتی کو چائےسمجھ کرپینےلگے۔ یہ وہی بات ہوئی کہ بدخشانیوں نے لال پتھر کو لعل سمجھا اور کشمیریوں نےرنگی ہوئی گھاس کو زعفران سمجھ کر اپنی دستاریں رنگنی شروع کردیں۔
نوعِ انسانی کی اکثریت کے فیصلوں کا ہمیشہ ایساہی حال رہاھے۔ جمعیت بشری کی یہ فطرت ھےکہ ہمیشہ عقل مند آدمی اکادکا ہوگا بھیڑ ںےوقوفوں ہی کی رھےگی۔ ماننے پرآئیں گےتوگائے کو خدا مان لیں گے انکار پر آئیں گےتو مسیح کو سولی پر چڑھا دیں گے۔

No comments