پان کے خواص اور افعال

Share:
پان  کے خواص اور افعال 

 پان اور اس کے مروجہ ضروری مصالحہ جات کے خواص اور افعال کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ بغیر تمباکو کے پان کا استعمال منہ کے امراض کے لئے نہایت مفید ہے ۔ یہ تعجب کی بات ہے کہ جو چیزیں نفع بخش ہوں ان کو مضر کیو نکر کہا جاسکتا ہے ۔ لیکن یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کرلینی چاہئے کہ ادویات کا استعمال مخصوص اوقات میں ہوتا ہے غیر اوقات میں ان کا استعمال کچھ ٹھیک نہیں ۔ 

بالا خر ہم اس نتیجہ پر پہونچے ہیں کہ اگر پان کو درجہ اعتدال پر استعمال کیا جائے تو انسان بہت سے امراض سے محفوظ رہ سکتا ہے ۔ اور اسکا استعمال نہایت ہی فائدہ بخش ہے ۔ بالخصوص قروم لثہ ‘ درد داندان‘ گندہ دہنی اور مسوڑہوں کے لئے نہایت نافع ہے اس کے علاوہ اور بھی بہت سے فوائد ہیں مثلاً ذائقہ کا درست ہونا ‘ زبان اور مسوڑھوں کے زخم مندمل ہونا ‘ حلق کی خرابی سے محفوظ رہنا ‘ کھانا کھانے کے بعد منھ کو صاف کرنے اور اس کی تمام کثافت کو دور کرنا وغیرہ پان کے بیڑے کے استعمال سے طبعت کو فرحت ملتی ہے اور خصوصاًموسم سرما میں گرمی پہنچاتا ہے ۔


 نامرغوب چیز کے استعمال کے بعد کھانے سے کراہت دفع ہوجاتی ہے اور منھ صاف ہوجاتا ہے۔ کھانے کے بعد پان کا استعمال ایک ٹانک کی حیثیت رکھتا ہے ۔کھانے کے ساتھ ہم اکثر نامعلوم طورپر جراثیم پیٹ میں چلے جاتے ہیں ۔ پان کا عرق اور دوسرے اجزاء ان جراثیم کو مار ڈالتے ہیں اور اس طرح ہم بہت سی بیماریوں سے بچ جاتے ہیں۔ پان کے کھانے کے بعد پیدا ہونے والی سرخی کی وجہ سے چہرہ پر خوبصورت بڑھ جاتی ہے ۔ اسلئے لوگ ( خصوصاً صنف نازک) اس کو افزائش جمال کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں ہندوستان میں پان ہی ایک ایسی مہذب اور کم خرچ تواضح ہے جسے غریب سے غریب پیش کرکے اپنے جذبات محبت ایک دوسرے پر آشکار کرسکتے ہیں ۔

اوپر بیان کی ہوئی خصوصیات کے پیش نظر پان اعتدال حدود میں نہ صرف
 استعمال کیاجاسکتا ہے بلکہ دوسروں کو اس کے استعمال کرنے کی ترغیب بھی دی جاسکتی ہے ۔ ہاں البتہ وہ کثرت پان استعمال کرنے والوں کو حق بجانب قرار نہیں دیا جاسکتا ۔ کیونکہ یہ امر مسلمہ ہے کہ ہر ایک چیز خواہ وہ اپنے فوائد میں کتنی ہی اعلیٰ کیوں نہ ہو حد اعتدال سے تجاوز کرکے استعمال کرنا اس کے مفید اثر کو خاک میں ملا دیتا ہے ۔اورپان بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ۔ زمانہ حال میں بعض لوگوں نے پان کو بہت بدنام کیا ہے ۔ لیکن ان نکتہ چینیوں نے اس بات کو پیش نظر نہیں رکھا کہ یہ نقصانات صرف اس وقت پیدا ہوتے ہیں جبکہ اس کے استعمال میں اعتدال کا لحاظ نہ رکھا جائے ۔ خصوصاً جب اس کے ساتھ تمبا کو یا دوسری مضر چیزوں کا استعمال کیا جائے ۔

پان کے کثرت استعمال سے نقصانات: جس وقت لقمہ منہ کے اندر پہنچتا ہے ۔ تو دانت اسے کچلتے ہیں اور لعاب دہن( تھوک ) پیدا کرنے والی گلٹیاں رطوبت زیادہ خارج کرنے لگتی ہیں جس میں جس میں ہضم کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے ۔ اس طرح ہضم غذا کا پہلا درجہ منھ کے اندر ہی شروع ہوجاتا ہے ۔ اور اس کی وجہ سے معدہ کے ہضمی عمل میں مدد ملتی ہے جب پان کثرت سے استعمال کرتے ہیں تو یہ گلٹیاں زیادہ مقدار میں لعاب دھن خارج کرتی ہیں کیونکہ پان کے زیادہ کثرت استعمال سے یہ گلٹیاں بہت زیادہ متحرک ہوجاتی ہیں چنانچہ ہر پان کھانے والا کثرت سے پیک تھوکنے پر مجبور رہتا ہے ۔ اس طرح سے ایک کارآمد شئے کو مسلسل برباد کرتے رہتا ہے ایسا عمل مسلسل اور ایک عرصہ تک جاری رہنے سے آخر گلٹیاں کمزور ہوجاتی ہے چنانچہ کھانا کھاتے وقت یا دوسرے اور اوقات میں جبکہ پان نہیں کھاتے لعاب دھن کم پیدا ہوتا ہے اس کی کمی کی وجہ سے ہضم(Digestion) کا فعل بخوبی انجام نہیں پاتا ۔ مسوڑھے کمزور ہوجاتے ہیں اور ہوسکتا ہے کہ دانت قبل ازوقت گرجائیں۔بعض لوگ چوبیس گھنٹے پان چباتے رہتے ہیں حتی کے راتوں کو سونے سے اٹھ کر پان کھا تے ہیں اور منہ میں پان رکھ کر سوجاتے ہیں ۔ صبح کو بغیر منھ دھوئے پان کھالیتے ہیں اور ایسے ہی لوگ پان میں بکثرت تمبا کو استعمال کرتے ہیں۔ اس سے بجائے فائدہ کے نقصان کا احتمال زیادہ رہتا ہے ۔ پان کے کثرت استعمال سے بھوک میں کمی آجاتی ہے دل کی دھڑکن بڑھ جاتی ہے ۔ اختلاج کا ڈر رہتا ہے ۔ دماغ کمزور اور اعصاب ضعیف ہوجاتے ہیں۔پھیپھڑے خشک اور کمزور ہوجاتے ہیں نیند کم ہوجاتی ہے اور رفتہ رفتہ صحت گرنے لگتی ہے اور مرض سل پیدا ہونے کی استعداد بڑھ جاتی ہے اس کے علاوہ پان کے زیادہ استعمال سے انسان کے مالیہ پر بھی اثر پڑتا ہے ۔
نتیجہ : پان ہر حالت میں بہت ساری خوبیوں کا حامل ہے اور پان کے بیڑہ کا استعمال واقعی صحت کے لئے ٹھیک ہے ۔ مگر استعمال میں اعتدال شرط ہے ۔ لہٰذا پان کے استعمال کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ دن میں دو ایک مرتبہ کھانا کھانے کے بعد چونا ‘ کتھا ہم وزن بطریق معروف پان پر لگا کر تھوڑی سی چھالیہ اور الائچی شامل کرکے کھالیا کریں ۔

No comments